جمعرات، 5 نومبر 2026

صدر ٹرمپ، ایران اور نیوکلیئر کوڈز کی افواہ: حقیقت یا پروپیگنڈا!!!

15 اکتوبر 2026

تحریر: عبدالجبار ترین

صدر ٹرمپ، ایران اور نیوکلیئر کوڈز کی افواہ: حقیقت یا پروپیگنڈا!!!

عالمی سیاست کے افق پر جب بھی اسرائیل، امریکہ، ایران اور مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطوں کے حوالے سے کوئی خبر سامنے آتی ہے تو وہ فوری طور پر عالمی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک نہایت سنسنی خیز دعویٰ سوشل میڈیا اور بعض میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرتا رہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر نیوکلیئر حملے کے لیے کوڈز طلب کیے مگر امریکی فوج کے اعلیٰ افسران، خصوصاً چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے انہیں روک دیا۔
یہ دعویٰ بظاہر کسی ہالی ووڈ فلم کا منظر معلوم ہوتا ہے، مگر جب اس کا سنجیدہ اور تحقیقی جائزہ لیا جائے تو حقیقت اس سے کافی مختلف اور زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔
اس خبر کی بنیاد دراصل کسی مستند سرکاری رپورٹ، خفیہ دستاویز یا تحقیقاتی صحافت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ دعوی ایک سابق سی ائی اے تجزیہ کار لاری جانسن نے اپنی ایک پاڈ کاسٹ میں کیا جسے بعد ازاں سوشل میڈیا اور چند دوسرے میڈیا پلیٹ فارمز نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ مگر نہ تو وائٹ ہاؤس، نہ پینٹاگون اور نہ ہی کسی معتبر عالمی ادارے نے اس دعوے کی تصدیق کی۔ اس کے باوجود یہ خبر اس قدر تیزی سے پھیلی کہ لاکھوں افراد اسے حقیقت سمجھ بیٹھے۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم انفارمیشن وار فیئر کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اطلاعات خود ایک طاقتور ہتھیار بن چکی ہیں۔ اور ایک غیر مصدقہ پاڈ کاسٹ بھی چند گھنٹوں میں عالمی بیانیہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مخصوص معاملے میں بھی یہی ہوا۔ ایک پوڈکاسٹ میں کئے گئے دعوے نے پہلے سوشل میڈیا پر جگہ بنائی، پھر اسے مختلف ویب سائٹس نے بغیر تحقیق کے شائع کیا، اور یوں یہ ایک “عالمی خبر” کی شکل اختیار کر گئی۔
اس خبر کے پھیلاؤ کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم عنصر سنسنی خیزی ہے۔ “ایٹمی جنگ” جیسا لفظ بذات خود ایک ایسا محرک ہے جو فوری توجہ حاصل کرتا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا الگورتھمز بھی ایسے مواد کو زیادہ فروغ دیتے ہیں جو خوف، تجسس یا جذبات کو ابھارتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی خبریں تیزی سے وائرل ہوتی ہیں اور لوگ بغیر تصدیق کے انہیں آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی نفسیات بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لوگ عموماً وہی معلومات قبول کرتے ہیں جو ان کے پہلے سے قائم شدہ خیالات سے مطابقت رکھتی ہوں۔ چنانچہ جو افراد صدر ٹرمپ کو ایک غیر متوازن رہنما سمجھتے ہیں، وہ ایسی خبر کو آسانی سے سچ مان لیتے ہیں، جبکہ ان کے حامی اسے مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے، اور وہ ہے سائکولاجیکل اور انفارمیشن وارفیئر۔ جدید دنیا میں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ ذہن سازی اور بیانیہ پر بھی لڑی جا رہی ہیں۔ اس تناظر میں ایسی خبریں کسی نہ کسی سطح پر سیاسی یا نفسیاتی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
اگرچہ اس مخصوص خبر کے پیچھے کسی باقاعدہ امریکی خفیہ منصوبے کا کوئی ثبوت موجود نہیں، مگر اس کا انتہائی اہم پہلو یہ ہے کہ نظریاتی طور پر یہ عین ممکن ہے کہ ایسی معلومات کو دانستہ حکمت عملی کے طور پر پھیلایا گیا ہو تاکہ ایرانی حکومت پر نفسیاتی اور سیاسی دباؤ ڈالا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ ایرانی رائے عامہ کو بھی متاثر کیا جا سکے۔
موجودہ جنگی صورتحال میں اس خبر کو اگر ایران جیسے ملک کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کی طرف سے ایرانی حکومت اور عوام کو ڈرانے اور کسی معاہدے پر لانے کے لیے ایسی خبریں ایک واضح پیغام دے سکتی ہیں کہ امریکہ انتہائی اقدامات اٹھانے پر غور کر رہا ہے۔ چاہے حقیقت کچھ بھی ہو، ایسی خبریں یقینا ایران کے خلاف ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔ یعنی ایٹمی حملے کی دھمکی سے ایرانی حکومت پر اس کے اندر سے دباؤ بڑھانے کے لیے، تاکہ ایرانی عوام ایسی خبروں سے متاثر ہو کر اپنی حکومت کے خلاف ہو جائیں۔
اس کا دوسرا پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ خبریں عالمی رائے عامہ اور دوسرے ممالک، جیسے چین، روس، یورپ وغیرہ کے لیے بھی ایک نفسیاتی حربہ ہو سکتی ہیں کہ وہ ایٹمی جنگ کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے فوری طور پر ایران کو مذاکرات کرنے اور کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے رضا مند کریں۔
اس کا تیسرا پہلو بھی پیش نظر رہے کہ امریکن فوج کی بہت ساری لیڈرشپ کو گھر بھیجنے کے بعد امریکی انتظامیہ کو فوج کے اندر سے بھی ایک مزاحمت کا سامنا ہے اور کسی نہ کسی درجہ پر یہ احساس ضرور موجود ہے کہ صدر ٹرمپ کے پہلے فوج کی مخالفت کے باوجود ایران پر حملہ کرنے اور پھر صدر ٹرمپ کے مسلسل متضاد بیانات نے امریکی فوج کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور امریکی فوج کی طرف سے ایسی خبریں لیک کی جا سکتی ہیں۔ جس کا مقصد صدر ٹرمپ کو ایک غیر متوازن اور غیر ذمہ دار شخصیت ظاہر کرنا اور فوج کی کمانڈ کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کرنا اور اس کا امیج ایک متوازن اور ذمہ دار قیادت کے طور پر ثابت کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
اس کا ایک چوتھا پہلو بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ غیر ملکی عناصر بھی ایسی خبریں پھیلا کر امریکہ میں عدم استحکام اور صدر ٹرمپ اور امریکی فوج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہوں۔
اب جب کہ ایسی خبروں کی تردید امریکی حکومت کی طرف سے باقاعدہ طور پر کی جا چکی ہے مگر پھر بھی اوپر بیان کردہ مفروضات کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ والله أعلم بالصواب