جمعرات، 5 نومبر 2026

آبنائے ھرمز: بزور طاقت قبضہ ناممکن!!! آخری قسط

5 اکتوبر 2026

دوسری/ آخری قسط”

آبنائے ھرمز: بزور طاقت قبضہ ناممکن!!!

…….کم لاگت اور بڑی تعداد میں تیار کیے جانے والے یہ ڈرونز نہ صرف فضائی نگرانی بلکہ تباہ کن حملوں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ بعض دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی ڈرون پیداوار اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ وہ بیک وقت سینکڑوں یا ہزاروں ڈرونز استعمال کر سکتا ہے، جو کسی بھی جدید بحری بیڑے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
سمندری بارودی سرنگیں بھی ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا ایک اہم ہتھیار ہیں۔ ایران کے پاس ہزاروں کی تعداد میں بحری بارودی سرنگیں موجود ہیں جو پانی کے اندر نصب کر دی جاتی ہیں اور کسی بھی گزرنے والے جہاز کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان سرنگوں کو صاف کرنا ایک نہایت سست رفتار اور خطرناک عمل ہوتا ہے، جس میں کئی مہینوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔
ایران کی بحریہ چھوٹی مگر انتہائی تیز رفتار کشتیوں پر مشتمل ہے، جو “swarm attacks” یعنی جھنڈ کی صورت میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ کشتیاں بڑے جہازوں کو چاروں اطراف سے گھیر لیتی ہیں، جس سے جدید ترین دفاعی نظام بھی دباؤ میں آ جاتا ہے۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی چند دنوں کا آپریشن نہیں بلکہ ایک ایسی مہم ہو سکتی ہے جس میں ہفتوں نہیں بلکہ کئ مہینوں کا وقت درکار ہو گا اور اس دوران عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
ایران کی طاقت کا ایک اور اہم پہلو اس کی طویل ساحلی پٹی ہے، جو خلیج فارس اور بحرِ عمان کے ساتھ تقریباً 1700 سے 1800 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔
یہ وسیع جغرافیہ ایران کو ایک غیر معمولی دفاعی برتری فراہم کرتا ہے۔ اس طویل ساحلی علاقے میں ایران مختلف مقامات سے میزائل اور ڈرون حملے کر سکتا ہے، جس سے حملہ آور فوج کے لیے کسی ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنا کر ایران کے حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک ایران نہ چاہے امریکہ اپنی پوری قوت لگانے کے باوجود یہاں تک کہ آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنے کے باوجود بھی تیل کی سپلائی یا مال بردار بحری جہازوں کی آمدورفت بحال نہیں کر سکتا۔ کیونکہ آبنائے ہرمز تو ایک دروازہ ہے اور اس دروازے تک پہنچنے کے لیے ان تمام جہازوں کو 1000 کلومیٹر سے لمبی خلیج فارس میں سے گزرنا پڑے گا۔ خلیجی ممالک میں کویت سے آبنائے ہرمز کا فاصلہ تقریبا 1000 کلو میٹر ہے اسی طرح بحرین سے تقریبا 500 سے 600 کلومیٹر،
قطر سے تقریبا 400 سے 500 کلو میٹر
اور متحدہ عرب امارات سے تقریبا 300 سے 400 کلو میٹر ہے۔اور یہ مکمل خلیج ایران کے میزائلوں کی زد میں ہے۔ اس یقینی خطرے کے پیش نظر کوئی بھی بحری جہاز اپنی تباہی کا خطرہ مول نہیں لے گا اور سب سے بڑھ کر جب تک ایران خلیج فارس میں ان بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی نہیں کروائے گا، دنیا میں کوئی بھی انشورنس کمپنی ان جہازوں کی انشورنس نہیں کرے گی بلکہ انشورنس ہونے کے باوجود بھی کوئی بھی مال بردار کمپنی اپنے عملہ کی جان اور بحری جہاز کی تباہی کا خطرہ مول نہیں لے کی۔
ایران چالیس سال سے اس جنگ کی تیاری کر رہا ہے اور اپنے دفاع کے لیے
ایرانی فوج نے اپنے ساحلی علاقوں میں زیرزمین تنصیبات بھی قائم کر رکھی ہیں، جن میں فوجی دستوں کی رہائش، میزائل لانچنگ سسٹمز اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی سہولیات شامل ہیں۔ یہ تنصیبات نہ صرف ہوائی حملوں سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ دشمن کے لیے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا بھی انتہائی مشکل کام ہے۔
ایران کا دفاعی نظام بھی (decentralized) ہے،
پورے ایران میں 31 مختلف کمانڈ آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک فوجی محاذ پر نقصان ہونے کی صورت میں بھی باقی نظام فعال رہتا ہے۔ یہی حکمتِ عملی اسے ایک مضبوط اور لچکدار دفاعی قوت بناتی ہے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے اہم نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ ایک ایسا جغرافیائی اور عسکری “پریشر پوائنٹ” ہے جہاں سے ایران عالمی طاقتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند رہتا ہے تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس علاقے میں اپنی موجودگی اور کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں،
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حالیہ جنگ نے آبنائے ہرمز کو دنیا کے حساس ترین علاقوں میں شامل کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں طاقت کا توازن، صرف فوجی طاقت اور جدید ہتھیاروں کا نہیں بلکہ جغرافیہ، سیاسی و فوجی حکمتِ عملی اور صبر کا کھیل ہے۔
ایران نے اپنے محدود وسائل کے باوجود اس جغرافیہ کو اپنی سب سے بڑی طاقت میں تبدیل کر دیا ہے، جبکہ بڑی طاقتیں بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتیں کہ آبنائے ہرمز میں جنگ کا مطلب صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر شدید سیاسی معاشی اور فوجی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
اور یہی وہ حقیقت ہے جو آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر ایک ایسا فیصلہ کن مقام بنا دیتی
ہے،جہاں جغرافیہ ہی اصل طاقت ہے۔