
تھوسیڈائیڈز ٹریپ: صدر شی جن پنگ کا تاریخی پیغام!!!
آج ہم جائزہ لیں گے کہ کیا صدر شی جن پنگ نے چین کے سپر پاور ہونے کا اعلان کردیا ہے اور انہوں نے ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کو کیا پیغام دیا ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے دورے کے دوران صدر شی جن پنگ کی جانب سے تھوسیڈائیڈز ٹریپ تھیوری کا حوالہ دینا، تائیوان کو “ریڈ لائن” قرار دینا، اور اس مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ تصادم (clashes/conflict) کا واضح ذکر کرنا بلاشبہ ایک غیر معمولی سفارتی لمحہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی چین کی جانب سے خود کو امریکہ کے مقابل ایک “سپر پاور” کے طور پر کھلے عام پیش کرنے کا اعلان تھا؟ اس سوال کا جواب سادہ نہیں بلکہ گہرے تجزیے کا متقاضی ہے۔
اس موقع پر تھوسیڈائیڈز ٹریپ تھیوری کا حوالہ یقینا ایک نظریاتی اشارہ تھا جو اس تاریخی تصور کو اجاگر کرتا ہے کہ جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت یعنی ایک (rising power)
دوسری پہلے سے قائم شدہ کسی غالب طاقت (dominant power) کو چیلنج کرتی ہے تو ان دونوں طاقتوں کے مابین جنگ کا امکان بہت ہی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ تھیوری قدیم یونان کے ایک مشہور مؤرخ اور فوجی جنرل تھوسیڈائیڈز (Thucydides) نے پیش کی تھی اسی لئے اس کا نام جنرل تھوسیڈائیڈز کے نام پر ہی تھوسیڈائیڈز ٹریپ تھیوری رکھا گیا۔
جنرل تھوسیڈائیڈز نے ہزاروں سال پہلے یونان کے دو بڑے شہروں “ایتھنز” اور “اسپارٹا” کے درمیان ہونے والی جنگ کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا تھا:
کہ “ایتھنز کی طاقت کا ابھرنا اور اس کی وجہ سے اسپارٹا کے دل میں پیدا ہونے والے خوف نے جنگ کو ناگزیر بنا دیا تھا۔”
اس زمانے میں اسپارٹا پہلے سے قائم شدہ ایک مضبوط طاقت تھا جبکہ ایتھنز ایک نئی ابھرتی ہوئی طاقت تھی۔ اسپارٹا کو یہ خوف پیدا ہو گیا تھا کہ ایتھنز اس کی طاقت پر غالب آ جائے گا اور اسے ختم کر دے گا۔ اسی خوف کی وجہ سے ان کے درمیان ایک ہولناک جنگ ہوئی اور دونوں ہی تباہ ہوگئے۔
صدر شی جن پنگ کا اس تصور کو خود صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کرنا ایک علامتی ہی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اسٹریٹجک اقدام تھا۔
صدر شی جن پنگ کا یہ غیر معمولی اقدام، تین اہم پیغامات دیتا ہے:
1۔ چین خود کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔
2۔ امریکہ کو ایک زوال پذیر یا کم از کم کمزور ہوتی ہوئ طاقت سمجھا جا رہا ہے
3۔ چین جنگ سے تو بچنا چاہتا ہے، لیکن مقابلے سے خوفزدہ بھی نہیں ہے۔
اس موقع پر تھوسیڈائیڈز ٹریپ کا حوالہ، محض علمی حوالہ نہیں تھا بلکہ ایک جیوپولیٹیکل اشارہ تھا کہ چین عالمی طاقتوں کے توازن میں اپنی جگہ مستحکم کر چکا ہے۔
صدر شی جن پنگ کا دوسرا سب سے اہم نکتہ تائیوان کو “ریڈ لائن” قرار دینا تھا جو چین کی خود اعتمادی کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے لیے ایک انتباہ بھی تھا۔
تائیوان کے حوالے سے چین کا موقف پہلے بھی سخت رہا ہے، لیکن صدر شی کا اسے براہ راست امریکی صدر کی موجودگی میں پوری دنیا کے میڈیا کے سامنے اپنی “ریڈ لائن” قرار دینا ایک بڑی سٹریٹیجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس بیان کے ممکنہ طور پر تین پہلو ہو سکتے ہیں:
1۔ سب سے پہلے نمبر پر ہم اس بیان کو چین کی اسٹریٹجک خود اعتمادی سے تعبیر کر سکتے ہیں کیونکہ اپنی سائنسی، صنعتی، اقتصادی، سماجی اور دفاعی ترقی کی وجہ سے چین اب اس پوزیشن میں ہے کہ وہ امریکہ کو کھل کر وارننگ دے سکتا ہے، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی
2۔ دوسرے نمبر پر ہم اسے چین کی طرف سے علاقائی بالادستی کے دعویٰ سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں کیونکہ چین نے امریکی صدر کی موجودگی میں برملا پوری دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ مشرقی ایشیا کا خطہ اور خاص طور پر ساوتھ چائنا سمندر اور تائیوان، اس کی خودمختاری میں شامل ہیں جہاں وہ کسی بھی بیرونی مداخلت کو ہر گز برداشت نہیں کرے گا۔
3. تیسرا اور انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ چین اپنے قومی مفاد اور خود مختاری کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کے تصادم کے لئے مکمل تیاری کر چکا ہے۔
صدر شی کی طرف سے تائیوان کے حوالے سے خاص طور پر ان الفاظ “clashes and conflict” کا چناؤ اور استعمال اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ چین اب صرف سفارتی زبان تک محدود نہیں بلکہ بوقت ضرورت عسکری آپشن کو بھی کھلے عام زیر بحث لا رہا ہے۔
اب خاص نکتہ یہ ہے کہ کیا صدر شی کی طرف سے یہ دنیا کے سامنے چین کے سپر پاور ہونے کا اعلان ہے؟
یہ بہت ہی دلچسپ صورتحال ہے اور یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، کیا صدر شی کی طرف سے امریکی صدر کی موجودگی میں تھوسیڈائیڈز ٹریپ جیسے معنی خیز استعاروں کا استعمال اور تائیوان کے متعلق واشگاف الفاظ میں وارننگ، چین کی جانب سے خود کو امریکہ کے برابر یا اس سے بھی بڑی سپر پاور قرار دینے کے مترادف ہیں؟
اس صورتحال پر بحث کی جا سکتی ہے اور ایسے دلائل دیئے جا سکتے ہیں جو راقم کے تجزیہ کی تائید کرتے ہیں:
جیسے چین کی جانب سے امریکہ کو براہ راست چیلنج، یعنی کسی بھی چینی صدر نے پہلی بار
امریکہ کے صدر کے سامنے اس قدر واضح انداز میں اپنی سرخ لکیریں کھینچیں ہیں جو امریکیوں کے لئے حیران کن ہی نہیں بلکہ پریشان کرنے والی بات ہے۔ کیونکہ چینی صدر نے تھوسیڈائیڈز ٹریپ تھیوری کا حوالہ دے کر خود کو عالمی طاقتوں کے کھیل میں امریکہ کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔
بلاشبہ موجودہ دور میں چین ایک زبردست عسکری و معاشی طاقت بن چکا ہے۔ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت، جدید ترین اسلحہ سے لیس مسلح افواج اور ٹیکنالوجی میں ناقابل یقین ترقی نے اسے ایک حقیقی سپر پاور بنادیا ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی انتہائی اہم نکتہ ہے کہ چین نے آج تک اپنے سپر پاور ہونے کا براہ راست اعلان نہیں کیا اور کبھی بھی کھلے لفظوں میں خود کو “سپر پاور” قرار نہیں دیا۔ اس کی پالیسی اب بھی جنگ و جدل کی بجائے پرامن ترقی بقائے باہمی کے اصول پر مبنی ہے۔
چین نے ہمیشہ کسی بھی ملک کے ساتھ تصادم سے گریز کیا ہے۔ اسی لئے صدر شی جن پنگ نے تھوسیڈائیڈز ٹریپ کے ریفرنس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر بھی زور دیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ چین مکمل طور پر امریکہ کے ساتھ کھلا ٹکراؤ نہیں چاہتا۔
چین بین الاقوامی نظام میں بھر پور شمولیت رکھتا ہے اور ابھی بھی عالمی تجارتی اور مالیاتی نظام کا حصہ ہے، جسے وہ مکمل طور پر توڑنے کے بجائے، نئے سرے سے تعمیر مککرنا چاہتا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ چین نے اپنے سپر پاور ہونے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا بلکہ ایک واضح “اشارہ” دے دیا ہے۔ بلکہ زیادہ درست تجزیہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ چین کی جانب سے کوئی رسمی اعلان نہیں تھا بلکہ ایک
“calibrated strategic signal”
تھا۔جس سے چین نے تین چیزیں واضح کر دیں۔
سب سے پہلے یہ کہ چین اب کمزور نہیں رہا بلکہ امریکہ کے برابر کی طاقت بن چکا ہے۔
دوسرے نمبر پر یہ کہ چین کے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔اور تیسرے نمبر پر یہ کہ چین، امریکہ کے ساتھ مقابلہ کے لیے تو تیار ہے، لیکن جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔
قارئین کرام، یہ بات پیش نظر رہے کہ عالمی طاقتوں کے اس قسم کے بیانات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور اس سےعالمی طاقتوں کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے ایک نیا سرد جنگ جیسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے اور دنیا کے وہ ممالک جو امریکہ اور یورپ کےزیر اثر ہیں، ان ممالک کو چین کو سپر پاور سمجھتے ہوئے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کی نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
آخر میں ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ
صدر شی جن پنگ کا صدر ٹرمپ کے سامنے تھوسیڈائیڈز ٹریپ تھیوری کا ذکر کرنا، تائیوان کو اپنی ریڈ لائن قرار دینا، اور ممکنہ تصادم کی بات کرنا یقیناً ایک طاقتور اور غیر معمولی سفارتی پیغام تھا۔
بلکہ زیادہ حقیقت پسندانہ تجزیہ یہ ہے کہ صدر شی کی طرف سے یہ ایک اعتماد سے بھرپور، محتاط، مگر واضح پیغام تھا کہ چین اب عالمی طاقتوں کے کھیل میں نہ صرف شامل ہو چکا ہے بلکہ اپنے مفادات کے دفاع کے لیے امریکہ کے برابر کھڑا ہونے کو تیار ہے۔ امریکی صدر کی موجودگی میں یہ اعلان نہیں، بلکہ ایک واضح وارننگ اور طاقت کا مظاہرہ تھا۔