تحریر: عبدالجبار ترین
پمز کا قومی سانحہ: نومولود جلتے رہے، نظام سویا رہا !!!
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں 14 نومولود معصوم بچوں کی المناک شہادت نے پوری قوم کو سوگوار کردیا ہے۔ یہ محض ایک ہسپتال میں آگ لگنے کا واقعہ نہیں، یہ پاکستان کے نظامِ صحت، انتظامی اہلیت، ادارہ جاتی ذمہ داری، سیاسی مداخلت، بیوروکریسی کی کارکردگی اور ہماری اجتماعی بے حسی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان معصوم بچوں کی شہادت کے بعد بھی ہمارا وہی روایتی اور گھسا پٹا سیاسی منظرنامہ آشکار ہونا شروع ہوگیا۔ افسوس، مذمت، تحقیقات کا اعلان، حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر الزامات، ٹیلی ویژن پر بحث، سوشل میڈیا پر شور اور پھر چند دن بعد خاموشی۔ پاکستان میں یہ منظر نیا نہیں۔ کوئی بھی سانحہ ہو ایک ہی فارمولا بار بار دہرایا جاتا ہے۔ پہلے حکومت افسوس کرتی ہے، پھر اپوزیشن حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے، حکومت پچھلی حکومتوں کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے، چند افسران کو معطل یا تبدیل کردیا جاتا ہے، ایک تحقیقاتی کمیٹی بن جاتی ہے، کچھ عرصے تک اخبارات میں خبریں آتی ہیں اور پھر معاملہ فائلوں کے اندھیروں میں دفن ہوجاتا ہے۔
لیکن اس بار ہمیں یہ روایت توڑنا ہوگی۔
پمز کے 14 نومولود بچوں کی شہادت کو کسی سیاسی جماعت کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنانا ان معصوم جانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ سوالات سے راہ فرار اختیار نہ کرے اور اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ اس سانحے کو صرف حکومت کو مطعون کرنے کے لیے سیاسی ہتھیار نہ بنائے۔ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ محض ہیجان برپا کرنے کی بجائے اصل حقائق سامنے لائے، اور بیوروکریسی کا فرض ہے کہ وہ کسی سیاسی دباؤ کے بغیر شفاف تحقیقات میں مکمل تعاون کرے۔
آج اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کس کو ذمہ دار قرار دیتی ہے یا اپوزیشن کسے مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر وہ 14 معصوم بچے کیوں نہ بچائے جا سکے؟ آگ کیوں لگی؟ کیا تمام حفاظتی انتظامات مکمل تھے؟ کیا ہسپتال سٹاف کو ایسے حادثات کا مقابلہ کرنے کی تربیت دی گئی تھی؟ یہاں پھر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اپنے ہسپتالوں کو واقعی پیشہ ورانہ مہارت کے مطابق چلا رہے ہیں؟
پاکستان میں ایک خطرناک روایت رواج پا چکی ہے۔ ہر نئ حکومت کی جانب سے نئی ترجیحات آجاتی ہیں۔ کہیں پسند ناپسند پر اداروں کے سربراہ بدلے جاتے ہیں تو کہیں کسی کو سیاسی قربت کی بنیاد پر اہم عہدہ ملتا ہے، کبھی کسی کو سفارش کے نتیجے میں پوسٹنگ ملتی ہے، کبھی تبادلہ سیاسی دباؤ کا ذریعہ بن جاتا ہے اور اکثر ذاتی اور سیاسی تعلقات کو پیشہ ورانہ اہلیت سے زیادہ اہمیت مل جاتی ہے۔ یہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف حکومتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ اصل مسئلہ سیاسی نظام کے اس بے ہودہ کلچر کا ہے جس میں بیوروکریسی کو اپنی غلام اور اداروں کو ریاستی ادارے سمجھنے کے بجائے حکومت وقت کے زیر نگیں ادارے سمجھا جاتا ہے۔ یہی سیاسی مداخلت آہستہ آہستہ اداروں کی پیشہ وارانہ روح کو کھا جاتی ہے۔
جب ایک افسر کو معلوم ہو کہ اس کی پروموشن اس کی کارکردگی سے زیادہ کسی طاقتور شخصیت کی خوشنودی پر منحصر ہے، جب اسے معلوم ہو کہ ایک فون کال پر اس کا تبادلہ ہوسکتا ہے، جب اسے خوف ہو کہ قانون کے مطابق کیا گیا فیصلہ بھی حکومت بدلنے کے بعد اس کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے تو پھر وہ قانون کی بجائے طاقتور لوگوں کو دیکھنا شروع کردیتا ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ قانون کیا کہتا ہے، وہ پوچھتا ہے کہ ” میرے لیے کیا حکم ہے؟” یہی وہ لمحہ ہے جب ایک پیشہ ورانہ ادارہ آہستہ آہستہ سیاسی اکھاڑے میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
پھر نااہلی صرف ایک فرد کی نااہلی نہیں رہتی، بلکہ پورا محکمانہ کلچر اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ یوں ریاستی مشینری بظاہر چلتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن اندر سے مفلوج ہوجاتی ہے۔
پمز کے سانحے کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر فائر سیفٹی سسٹم میں خرابی تھی تو کیا کسی نے اس کی نشاندہی کی؟ اگر کسی نے نشاندہی کی تو اسے دور کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر متعلقہ سٹاف کو فائرفائٹنگ کی تربیت نہیں دی گئی تو یہ کس کی ذمہ داری تھی؟ اگر ہنگامی اخراج کے بارے میں شکایت تھی تو اسے کیوں دور نہیں کیا گیا؟ اگر یہ خامیاں کئی ماہ یا کئی سال سے موجود تھیں تو انتظامیہ کہاں تھی؟
یہ سوال صرف پمز سے متعلق نہیں۔ یہ پاکستان کے پورے سرکاری نظام سے متعلق ہیں۔ ہمیں ہر حادثے کے بعد “قربانی کا بکرا” تلاش کرنے کی عادت ختم کرنا ہوگی۔ اگر ایک افسر کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس غفلت کو روکنے والا پورا نگران سسٹم کہاں تھا اور یہی حقیقی احتساب کا طریقہ کار ہے۔
صرف کسی ایک شخص کو معطل کرکے فائل بند کردینا احتساب نہیں، ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ سانحے کی بنیادی وجوہات کیا تھیں اور سسٹم کہاں کہاں ناکام ہوا۔ جدید اداروں میں حادثات کی تحقیقات کا مقصد صرف کسی ایک شخص کو سزا دینا نہیں بلکہ اس کی وجوہات معلوم کرنا بھی ہوتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسا حادثہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ حادثے کے بعد پہلا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ “مجرم کون ہے؟” بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ “غلطی کہاں ہوئی؟” پھر پوچھا جائے کہ “یہ غلطی پہلے کیوں نہ پکڑی گئی؟” پھر یہ کہ “اسے دوبارہ کیسے روکا جائے؟” اور آخر میں یہ طے کیا جائے کہ “ذمہ داری کس کس سطح پر بنتی ہے؟” یہ طریقہ کار کسی مجرم کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ اصل مجرم تک پہنچنے کے لیے ہے۔
پمز کے سانحے کے بعد حکومت نے تحقیقات اور کارروائی کی بات کی ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن قوم یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ تحقیقات کتنی آزادانہ، شفاف اور جامع ہوں گی۔ کیا تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے گی؟ کیا اس میں ذمہ داری واضح طور پر متعین ہوگی؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس رپورٹ کی سفارشات پر عمل بھی ہوگا؟
حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ تنقید سے خوفزدہ ہونے کے بجائے شفافیت اختیار کرے۔ اگر انتظامیہ درست ہے تو ثبوت سامنے لائے۔ اگر کہیں غفلت ہوئی ہے تو اسے چھپانے کی کوشش نہ کرے اور اگر کوئی افسر یا ادارہ قصور وار ہے تو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر اس کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔
پاکستان کو ایک ایسے گورننس سسٹم کی ضرورت ہے جس کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ ریاست حکومت سے بڑی ہے، قانون شخصیت سے بڑا ہے، ادارہ سیاسی جماعت سے بڑا ہے اور میرٹ سیاسی وفاداری سے بڑا ہے۔
پمز کی آگ بجھ گئی ہے، مگر اصل آگ ابھی باقی ہے۔ وہ آگ سیاسی مداخلت، میرٹ کے قتل اور ادارہ جاتی کمزوری کی ہے۔
بحیثیت قوم ہمیں اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ادارے شخصیتوں کے غلام ہوں گے یا ریاست کے ستون؟ بیوروکریسی سیاسی سرپرستوں کی وفادار ہو گی یا انصاف اور قانون کی رکھوالی؟ احتساب سیاسی ہتھیار ہوگا یا قومی اصول؟ تحقیق مجرم کو بچانے کے لیے ہوگی یا نظام ٹھیک کرنے کے لیے؟
کیونکہ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جس میں حکمران طاقتور ہوں۔ بلکہ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جس میں ادارے مضبوط ہوں اور ایک مہذب ریاست وہ ہے جہاں کسی نومولود کی جان کی قیمت سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو۔
اگر ہم نے بحیثیت قوم اب بھی سبق نہ سیکھا تو یاد رکھیے۔
اگلی بار آگ صرف کسی وارڈ میں نہیں لگے گی؛ بلکہ اگلی بار یہ آگ پورے نظام کو جلا کر راکھ کر دے گی۔
وماعلينا الا البلاغ۔
